ابنا: اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے ہائی کمشنر انٹونیو گیوٹیریس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا میں امن اور سلامتی کیلیے تنازع کے خاتمے کیلیے اپنا کردار ادا کرے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شام کے لوگوں کی مدد کرے۔انہوں نے کہا کہ میرا نقطہ نظر ہے کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو اس کے مشرق وسطیٰ میں پھیلنے کا حقیقی امکان ہے اور پھر انسانی اور سیاسی نقطہ نگاہ سے اس چیلنج سے نمٹنے کا کوئی حل نہیں ہو گا۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب تک 11 لاکھ سے زائد شامی باشندے شام سے ہجرت کر چکے ہیں جن میں سے اکثریت نے اردن، عراق، لبنان اور ترکی کا رخ کیا ہے جبکہ اسی دوران ملک بھر میں 40 لاکھ سے زائد افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔انتونیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام کا بحران صرف ایک بحران نہیں بلکہ ہمیں جس چیز کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس بحران کے دہانے پر کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چیزیں بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہیں، یہ صرف شام کی صورتحال بدتر نہیں کر رہیں بلکہ اس سے اطراف کے ملکوں کے حالات بگڑنے کا بھی خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ شام میں 700 ملین ڈالرکی امداد کی فوری ضرورت ہے اور حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فنڈز جاری کریں۔انہوں نے کہا کہ اس تنازع کا حل ہر ایک کے مفاد میں ہے خصوصاً سیاسی حل یقیناً معاملے کے حل میں مدد دے گا۔، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانی ضوریارت کا حل بھی ہر ایک کے مفاد میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242
14 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 400205
اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ادارے نے شام میں جاری تنازع کے دو سال مکمل ہونے پر ایک بیان میں خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع کا پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلنے کا حقیقی امکان ہے۔